America Army Exit Afghanistan 316

افغانستان سے کتنے فیصد امریکی افواج نکالی اور بقیہ کب نکالیں گے؟جاننے کے لئے کلک کرے

افغانستان سے کتنے فیصد امریکی افواج نکالی اور بقیہ کب نکالیں گے؟جانیے اس خبر میں

نیو یارک امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تقریبا پچیس فیصد افواج نکال لی گئی ہیں۔ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ اب تک 160 سی 17 طیاروں جتنا سامان اور آلات واپس لے جا چکے ہیں، جبکہ دس ہزار سے زائد ملٹری آلات بھی ڈیفنس لاجسٹک ایجنسی کو واپس کردئے گئے ہیں۔ترجمان کے مطابق امریکی فورسز نے 5 تنصیبات افغان فورسز کے حوالے کردی ہیں، 11ستمبر تک افغانستان سے فوج کے انخلا کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔

افغان امن عمل میں امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن عمل میں امریکا کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ اسلام آباد سمجھتا ہے کہ خطے کیلئے اقتصادی ترقی اہم ہے اور افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔

امریکی کانگریس میں خارجہ امور کی کمیٹی کی سماعت کے دوران امریکی کانگریس ویمن سارا جیکبز کی جانب سے خلیل زاد سے پوچھا گیا کہ افغان امن عمل کو پائیدار بنانے میں کن چیلجنز کا سامنا ہے؟سوال کا جواب دیتے ہوئے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امریکا ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ یہ امن عمل کامیاب ہو۔

ہمیں موجودہ حالات میں مذاکراتی عمل کو بڑھانے کے لیے پاکستان کی حوصلہ افزا حمایت حاصل ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو طالبان پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

امریکا طالبان اور افغان حکومت دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ طالبان کے کچھ مطالبات ہیں جیسے کہ وہ کابل حکومت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں، وہ ان قیدیوں کے نام اقوام متحدہ اور امریکا کی کالعدم ناموں کی فہرستوں سے نکلوانا چاہتے ہیں

جن کو پورا کر کے ہم کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔زلمے خلیل زاد نے کہا کہ جنگ کئی برسوں سے جاری ہے، کچھ اس سے منافع بھی کما رہے ہیں لیکن امریکا اس جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں