ن لیگ نے لوڈشیڈنگ اور گرمی کی شدید لہر کے پیش نظر حکومت سے کیا مطالبہ کر دیا؟ طالبات کے لئے اہم خبر 346

ن لیگ نے لوڈشیڈنگ اور گرمی کی شدید لہر کے پیش نظر حکومت سے کیا مطالبہ کر دیا؟ طالبات کے لئے اہم خبر

ن لیگ نے لوڈشیڈنگ اور گرمی کی شدید لہر کے پیش نظر حکومت سے کیا مطالبہ کر دیا طالبات کے لئے آواز اٹھا دی

ملک میں جاری گرمی کی شدید لہر اور لوڈشیڈنگ کے باعث پاکستان مسلم لیگ ن نے سکولز بند کرنے کا مطالبہ کر دیا ، مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ عمران خان اینڈ کمپنی اپنی چوری، نااہلی اور نالائقی کا ظلم معصوم بچوں پہ کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں ترجمان پاکستان مسلم لیگ ن نے کہا کہ نواز شریف نے طلب سے زیادہ بجلی بنا کر عوام کو دی، بدترین لوڈ شیڈنگ عمران مافیا کی ناقص منصوبہ بندی، بدانتظامی اور چوری کی وجہ سے ہے، قہر کی گرمی اور لوڈ شیڈنگ میں لوگوں کے بچے بے ہوش ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجلی مہنگی ترین اور لوڈ شیڈنگ تاریخ کی بد ترین، کیا عمران خان اور ان کے وزراء کے بچے 43 ڈگری میں بجلی کے بغیر والے سکول جا رہے ہیں؟ عمران مافیا پہلے چیز مہنگی کرتا ہے اور پھر غائب کرتا ہے، عمران مافیا نے چینی 52 سے 120 روپے کلو کر دی لیکن پھر بھی عوام کو ملتی نہیں ہے، عمران مافیا نے آٹا 35 سے 90 روپے کر دیا اور مارکیٹ سے غائب کردی جاتی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے گرمی کی شدت بڑھنے اور سکولوں میں بچوں کی حالت غیرہونے کے واقعات پر موسم گرما کی تعطیلات پر غور شروع کردیا ہے، تعلیمی اداروں میں 15جون سے چھٹیوں کا امکان ہے

لاہور، اسلام آباد سمیت مختلف اضلاع میں شدید گرمی کے باعث معصوم بچے نڈھال اور بے ہوش ہونے لگے، جب کہ بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے جون کے سخت اورشدید گرمی کے مہینے میں سکول کھول تو دیے ہیں لیکن بچوں کا سکول جانا اور پھر آگ برساتی گرمی میں سکول سے واپس آنا محال ہوگیا ہے

بچے سکولوں میں گرمی کی شدت کے باوجود نہ صرف کلاسز میں بیٹھتے ہیں بلکہ گرم پانی پینے پر بھی مجبور ہیں، اکثر سکولوں میں گرمیوں کے پیش نظر بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں، واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں،جس سے طلبا میں پانی کی کمی کے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں

اسی طرح کلاسز میں 50 ، 50 بچوں کا ایک ساتھ بیٹھنا مزید درجہ حرارت بڑھا دیتا ہے، اگر بجلی چلی جائے تو پسینے سے شرابور بچے گرمی سے نڈھال ہوجاتے ہیں، دیہاتی علاقوں میں تو بچوں کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں سکول جانے کیلئے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں