شہباز شریف کی قومی اسمبلی میں دبنگ تقریر حکومت سے کیا کیا سوالات پوچھے؟ جانیے 380

شہباز شریف کی قومی اسمبلی میں دبنگ تقریر حکومت سے کیا کیا سوالات پوچھے؟ جانیے

شہباز شریف کی قومی اسمبلی میں دبنگ تقریر حکومت سے کیا کیا سوالات پوچھے؟ جانیے اس رپورٹ میں

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بالآخر چوتھے روز تقریر کرنے میں کامیاب ہو گئے اس سے قبل تین روز تک وہ جب بجٹ پر خیالات کا اظہار کرنے کے لیے کھڑے ہوتے

حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان نعروں اور شور شرابے کا مقابلہ شروع ہو جاتا۔
شہباز شریف نے حکومتی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب عوام کی جیب خالی ہو تو بجٹ ان کو کیا دے گا؟

انہوں نے بجٹ کی کاپی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام پوچھ رہے ہیں کہ اس میں ایک کروڑ نوکریاں کہاں ہیں؟ پچاس لاکھ گھر کہاں ہیں؟

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن معاہدے پر پہنچ گئی ہے، فیصلہ ہوا ہے کہ ’اجلاس احسن طریقے سے چلایا جائے گا۔‘

اسلام آباد میں جمعرات کو وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ دونوں طرف سے یہ ہمارے ملک اور آئین کے لیے اچھا رویہ نہیں تھا۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔‘

’ہماری آج اپوزیشن سے ملاقات ہوئی ہے اور ایک مشترکہ لائحہ عمل بنا ہے جس کا اعلان سپیکر اسد قیصر اسمبلی میں کریں گے۔‘

دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے حکومتی دعوے کے حوالے سے ابھی تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت برداشت کیا، سب نے برداشت کیا اور اس کے بعد بھی دو دن تک یہی حال رہا، جو ہمارے ملک اور آئین کے لیے اچھا رویہ نہیں ہے۔ بقول ان کے وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آئین کے مطابق اسمبلی کو چلایا جائے اور اچھا ماحول رکھیں۔

بجٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اچھا بجٹ پیش کیا ہے، ’ہم چاہتے ہیں اس پر بحث ہو اور اچھے طریقے سے ہو۔‘

پرویز خٹک کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن بے شک مخالفت یا تنقید کرتی رہے تاہم ہمارا کام ہے کہ ہم نے جو کیا ہے وہ سامنے لائیں۔

’فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسمبلی کو بہتر انداز میں چلایا جائے، ایک دوسرے کی عزت کرنی ہے اور گالی گلوچ سے پرہیز کرنا ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس حوالے سے کمیٹی بھی بنائی جا رہی ہے جس میں سپیکر کے اختیارات کو بڑھائے جانے پر بھی کام ہو گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس میں پارلیمان کی سبکی ہوئی ہے اور سیاست دانوں کو ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ سپیکر کے اختیارات کو کس طرح بڑھانا ہے۔
انہوں نے اپوزیشن سے اپیل بھی کی کہ وہ سپیکر اسمبلی کے خلاف لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد لے اور امید ظاہر کی ایسا ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں