سرکاری سکولز نے امتحانات لینے کے لیے نئی شرائط کا اعلان کر دیا ۔۔ 452

سرکاری سکولز نے امتحانات لینے کے لیے نئی شرائط کا اعلان کر دیا ۔۔

سرکاری سکولز نے امتحانات لینے کے لیے نئی شرائط کا اعلان کر دیا ۔۔
سرکاری سکولوں میں داخلے کے لئے (ب) فارم لازمی کر دیا گیا، سکول سربراہان کو سیس پر پہلے سے داخل بچوں کے (ب) فارم کا اندراج بھی کرنا لازمی ہوگا۔

(ب) فارم کے اندارج کے بغیر کسی طالبعلم کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق سرکاری سکولوں میں داخلے کے لئے( ب) فارم لازمی کردیا گیا۔سیس پر پہلے سے داخل بچوں کے (ب) فارم کا اندراج کرنا بھی

لازمی ہوگا۔ محکمہ سکول ایجوکیشن نے( ب) فارم کے اندراج کے لئے تمام اتھارٹیز کو مراسلہ جاری کر دیا۔ سکول سربراہان سیس پر تمام بچوں کے (ب) فارم کا اندارج کریں گے۔ سکول سربراہان کو بچوں کے (ب) فارم کے اندراج کے لئے31 اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔

محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق( ب) فارم کا اندارج نہ کرنے پر متعلقہ سربراہان کے خلاف کارروائی کے جائے گی۔ قبل ازیں پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں 69 فیصد جعلی انرولمنٹ کا انکشاف ہوا تھا جس کا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے نوٹس لے لیا۔ ایجوکیشن اتھارٹی نے شہر بھر کے تمام سرکاری سکولوں کو جعلی انرولمنٹ

کرنے سے روک دیا تھا، تمام سکول سربراہان بچوں کے داخلوں سے قبل والدین سے (ب) فارم لازمی وصول کریں گے۔ مراسلہ میں مزید کہا گیاتھا کہ ب فارم کے اندراج کے بغیر کسی بھی طالبعلم کا داخلہ نہیں کیا جائے گا جبکہ جعلی انرولمنٹ کرنیوالے سکول سربراہان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

گزشتہ برسوں میں پنجاب میں 70 لاکھ کے قریب اور لاہور کے مختلف سکولوں میں 35 ہزار سے زائد بچوں کے جعلی داخلوں کا انکشاف ہوا تھا۔ یاد رہے کہ محکمہ سکول ایجوکیشن میں رواں سال سکول شماری کے موقع پر بچوں کو سپیشل آئی ڈی جاری کرنا ہے جو بغیر (ب) فارم کے اندراج کے جاری نہیں ہوسکے گا۔

سپیشل آئی کے ذریعے بچے کی تمام ایجوکیشن کا ریکارڈ ون کلک پر آن لائن حاصل ہوسکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں